مجاہد

تو فطرت سے قریب ہے پہاڑوں سے محبت تیری
قدرت تجھ پہ مہرباں یہی تو ہے نکہت تیری

اک ہم ہیں آشفتہ سر ہنگامہ خیزیوں میں شہر کی

یہاں پنجرے سونے کے وہاں آزادی سلطنت تیری

مجھے یقیں ہے فریب و دجل میں تو نہ آئے گا

کفر سے نمایاں ہے ہر دور میں عداوت تیری

اپنے اسلاف کا سبق نہ جانے کہاں ہم گنوا بیٹھے

باطل سے تجھے مخاصمت وہی تو طاقت تیری

جکڑبندیوں آسائش و آرائش سے تو بے پرواہ

قرآن لگا کے سینے سے سوکھی روٹی چاہت تیری

یہاں مدرسے بھی خانقاہیں بھی مسجدیں شاندار

بزدلی ہے ہماری چادر اور عظیم شجاعت تیری

دالبندین آنلاین

0 نظرات: